ابنا: صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے پير کي شام نيويارک ميں اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي ميں قانون کي حکمراني کے زير عنوان منعقدہ چوٹي کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ قانون سازي ايک مقدس عمل ہے اور خود قانون کو منصفانہ اور حکمت پر مبني ہونا چاہئے –صدر مملکت نے کہا کہ کہ قانون بنانےوالے کو حقيقي طور پر عوام کا نمائندہ ہونا چاہئے اور اس کي تشريح عوام کي حقيقي و آزادانہ رائے کے تناظر ميں منصفانہ طور پر کي جاني چاہئے - انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والوں کو باخبر ، امانت دار ، مفيد ، انصاف پسند ، قانون پر يقين رکھنے والا، صاحب ارادہ ، غير جانبدار اور عوام کے حقوق کا دفاع کرنے والا ہونا چاہئے –صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ قانون پر عمل در آمد بھي صحيح ، منصفانہ اور يقيني طور پر عالمانہ انداز ميں حکمت و تدبير کے ساتھ ہونا چاہئے ،کہا کہ قانون سازي کچھ اس طرح سے ہوني چاہئے کہ عام لوگ اسے منصفانہ اور اپنے نيزسماج کے مفاد ميں سمجھيں اور اس پر يقين رکھيں نيز اس پر عمل در آمد ميں تعميري کردار ادا کريں –صدر مملکت نے اسي طرح کہا کہ اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل ميں ويٹو کا حق رکھنے والے کچھ ملک ، صہیوني ریاست کے ايٹمي ہتھياروں پر خاموشي اختيار کئے ہوئے ہيں ليکن دوسري اقوام کي علمي ترقي ميں رکاوٹ بنتے ہيں - انہوں نے کہا کہ جمہوريت کے سلسلے ميں بھي جب ان کے مفادات کا تقاضا ہوتا ہے تو بد ترين مداخلت اور نمائشي انتخابات کي تائيد کرتے ہيں ليکن جب نتائج ان کے مفادات کے مطابق نہيں ہوتے تو انتہائي شفاف و آزاد انتخابات کو بھي غلط قرار ديتے ہيں - انہوں نے کہا کہ خاص طور پر فلسطيني عوام کے ساتھ غاصب صہیوني ریاست کے رويے پر توجہ دي جاني چاہئے- انہوں نے کہا کہ ساٹھ سال سے زائد عرصے سے يہ غير منصفانہ اور دوہرا رويہ جاري ہے-صدرمملکت نے اسي طرح اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ آزادي اور عالمي امن کے تحفظ کے نام پر اس سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ، اقوام عالم کي آزادي اور بنيادي حقوق کو پامال کر ديا گيا ہے اور ان پر بڑي طاقتوں کي خواہش مسلط کر دي گئ ہے ، کہا کہ قانون بنانے اور اس پر عمل کرنے والوں کو کسي جماعت ، پارٹي يا خاص طاقت کے زير اثر نہيں ہونا چاہئے-
.......
/169